love shayari photo sad shayari love status ghazals

love shayari photo sad shayari love status ghazals

شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کو
اس سے کیا فرق پڑے گا ترے دیوانے کو

کیا کوئی کھیل ہے بے نام و نشاں ہو جانا
ویسے تو شمع بھی تیار ہے جل جانے کو

وہ عجب شخص تھا کل جس سے ملاقات ہوئی
میں ملا ہوں کسی جانے ہوئے ان جانے کو

ایک لمحہ بھی تو بے کار نہیں کٹ سکتا
ایک گتھی جو ملی ہے مجھے سلجھانے کو

یہ الگ بات کہ اک بوند مقدر میں نہ تھی
سر پہ سو بار گھٹا چھائی رہی چھانے کو

شام ہونے کو ہے جلنے کو ہے شمع محفل
سانس لینے کی بھی فرصت نہیں پروانے کو

شہزاد احمد

یہ زندگی تو کہیں ختم ہی نہیں ہوتی
اب اور کتنے دنوں یہ عذاب اٹھاؤں میں

محمد علوی

غم کے سانچے میں ڈھل سکو تو چلو
تم مرے ساتھ چل سکو تو چلو

دور تک تیرگی میں چلنا ہے
صورت شمع جل سکو تو چلو

حبیب جالب

love shayari photo sad shayari love status ghazals

کتنی بے نور تھی دن بھر نظر پروانہ
رات آئی تو ہوئی ہے سحر پروانہ

شمع جلتے ہی یہاں حشر کا منظر ہوگا
پھر کوئی پا نہ سکے گا خبر پروانہ

بجھ گئی شمع کٹی رات گئی سب محفل
اب اکیلے ہی کٹے گا سفر پروانہ

رات بھر بزم میں ہنگامہ ہی ہنگامہ تھا
صرف خاموشی ہے اب نوحہ گر پروانہ

ساری مخلوق تماشے کے لیے آئی تھی
کون تھا سیکھنے والا ہنر پروانہ

آسماں سرخ ہے سورج بھی ابھی ڈوبا ہے
ابھی روشن نہ کرو رہ گزر پروانہ

نہ سہی جسم مگر خاک تو اڑتی پھرتی
کاش جلتے نہ کبھی بال و پر پروانہ

شمع کیا چیز ہے جلتی تو کہاں تک جلتی
ابھی زندہ ہے دل بے خطر پروانہ

ہائے وہ حسن کہ جس کا کوئی مشتاق نہیں
ہائے وہ شمع کہ ہے بے خبر پروانہ

جس طرح گزرے گی یہ رات گزر جائے گی
مدتوں یاد رہے گا اثر پروانہ

ایک ہی جست میں طے ہو گئی منزل شہزاد
کتنے آرام سے گزرا سفر پروانہ

شہزاد احمد

https://shayari-urdu-hindi.com/love-shayari-photo-heart-touching-shayari-image-2/

دل و نظر پہ ترے بعد کیا نہیں گزرا
تجھے گماں کہ کوئی حادثہ نہیں گزرا

وہاں وہاں بھی مجھے لے گیا ہے شوق سفر
کبھی جہاں سے کوئی قافلہ نہیں گزرا

اگرچہ تو بھی نہیں اب دلوں کی دنیا میں
مگر یہاں کوئی تیرے سوا نہیں گزرا

ہم اب تو اس کو بھی اک حادثہ سمجھتے ہیں
خیال تھا کہ کوئی حادثہ نہیں گزرا

کبھی کبھی نظر آئی امید بھی شہزاد
ہمارا وقت کبھی ایک سا نہیں گزرا

شہزاد احمد

Shayari parveen shakir ghazals love shayari status

بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے
ہماری زندگی برباد کر کے

پلٹ کر پھر یہیں آ جائیں گے ہم
وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کر کے

رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے
مگر ہاں منت صیاد کر کے

بدن میرا چھوا تھا اس نے لیکن
گیا ہے روح کو آباد کر کے

ہر آمر طول دینا چاہتا ہے
مقرر ظلم کی میعاد کر کے

Shayari parveen shakir ghazals love shayari status

https://cacke-recipe.com/all-recipe-quick-roll-of-lemon-homemade-recipe

جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا
کسی بھی رت میں ہرا ہو یہ وہ درخت نہ تھا

وہ خواب دیکھا تھا شہزادیوں نے پچھلے پہر
پھر اس کے بعد مقدر میں تاج و تخت نہ تھا

ذرا سے جبر سے میں بھی تو ٹوٹ سکتی تھی
مری طرح سے طبیعت کا وہ بھی سخت نہ تھا

مرے لیے تو وہ خنجر بھی پھول بن کے اٹھا
زبان سخت تھی لہجہ کبھی کرخت نہ تھا

اندھیری راتوں کے تنہا مسافروں کے لیے
دیا جلاتا ہوا کوئی ساز و رخت نہ تھا

گئے وہ دن کہ مجھی تک تھا میرا دکھ محدود
خبر کے جیسا یہ افسانہ لخت لخت نہ تھا

Shayari parveen shakir ghazals love shayari status

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں
آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں

شام بھی ہو گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری
بھولنے والے میں کب تک ترا رستا دیکھوں

ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں
آج میں خود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں

کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر
اتنے غیروں میں وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں

تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جان حیات
جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں

بند کر کے مری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے
بوجھے جانے کا میں ہر روز تماشا دیکھوں

سب ضدیں اس کی میں پوری کروں ہر بات سنوں
ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں

مجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح
انگ انگ اپنا اسی رت میں مہکتا دیکھوں

پھول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کھل جائے
پنکھڑی پنکھڑی ان ہونٹوں کا سایا دیکھوں

میں نے جس لمحے کو پوجا ہے اسے بس اک بار
خواب بن کر تری آنکھوں میں اترتا دیکھوں

تو مری طرح سے یکتا ہے مگر میرے حبیب
جی میں آتا ہے کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں

ٹوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے
تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں

https://shayari-urdu-hindi.com/shayari-photo-love-shayari-images-sad-shayari/

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

shayari photo Parveen shakir ghazals shayari image

shayari photo Parveen shakir ghazals shayari image

پروین شاکر چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا

ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا

اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر
بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا

ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا

میرے لبوں پہ مہر تھی پر میرے شیشہ رو نے تو
شہر کے شہر کو مرا واقف حال کر دیا

چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے
وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا

مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا

https://shayari-urdu-hindi.com/love-shayari-image-sad-shayari-love-status-best-poetry/

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا

وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا

وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے
موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا

آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگی
تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا

مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث
جرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا

shayari photo Parveen shakir ghazals shayari image

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی

بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناؤں گی

اب اس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گنگناؤں گی

وہ ایک رشتۂ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود
وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی

سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب کبھی تری آواز سن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی