Shayari Nasir kazmi best evers ghazals urdu hindi

تیرے بالوں کی خوشبو سے
سارا آنگن مہک رہا تھا

ناصر کاظمی

تو جب میرے گھر آیا تھا
میں اک سپنا دیکھ رہا تھا

تیرے بالوں کی خوشبو سے
سارا آنگن مہک رہا تھا

چاند کی دھیمی دھیمی ضو میں
سانولا مکھڑا لو دیتا تھا

تیری نیند بھی اڑی اڑی تھی
میں بھی کچھ کچھ جاگ رہا تھا

میرے ہاتھ بھی سلگ رہے تھے
تیرا ماتھا بھی جلتا تھا

دو روحوں کا پیاسا بادل
گرج گرج کر برس رہا تھا

دو یادوں کا چڑھتا دریا
ایک ہی ساگر میں گرتا تھا

دل کی کہانی کہتے کہتے
رات کا آنچل بھیگ چلا تھا

رات گئے سویا تھا لیکن
تجھ سے پہلے جاگ اٹھا تھا

ناصر کاظمی

سورج سر پہ آ پہنچا
گرمی ہے یا روز جزا

ناصر کاظمی

Shayari Nasir kazmi best evers ghazals urdu hindi shayari

شہر کے خالی اسٹیشن پر
کوئی مسافر اترا ہوگا

ناصر کاظمی

او میرے مصروف خدا
اپنی دنیا دیکھ ذرا

اتنی خلقت کے ہوتے
شہروں میں ہے سناٹا

جھونپڑی والوں کی تقدیر
بجھا بجھا سا ایک دیا

خاک اڑاتے ہیں دن رات
میلوں پھیل گئے صحرا

زاغ و زغن کی چیخوں سے
سونا جنگل گونج اٹھا

سورج سر پہ آ پہنچا
گرمی ہے یا روز جزا

پیاسی دھرتی جلتی ہے
سوکھ گئے بہتے دریا

فصلیں جل کر راکھ ہوئیں
نگری نگری کال پڑا

ناصر کاظمی

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا
یاد نے کنکر پھینکا ہوگا

آج تو میرا دل کہتا ہے
تو اس وقت اکیلا ہوگا

میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے
اوروں کو خط لکھتا ہوگا

بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں
تو اب تھک کر سویا ہوگا

ریل کی گہری سیٹی سن کر
رات کا جنگل گونجا ہوگا

شہر کے خالی اسٹیشن پر
کوئی مسافر اترا ہوگا

آنگن میں پھر چڑیاں بولیں
تو اب سو کر اٹھا ہوگا

یادوں کی جلتی شبنم سے
پھول سا مکھڑا دھویا ہوگا

موتی جیسی شکل بنا کر
آئینے کو تکتا ہوگا

شام ہوئی اب تو بھی شاید
اپنے گھر کو لوٹا ہوگا

نیلی دھندھلی خاموشی میں
تاروں کی دھن سنتا ہوگا

میرا ساتھی شام کا تارا
تجھ سے آنکھ ملاتا ہوگا

شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو
میرا سلام تو بھیجا ہوگا

پیاسی کرلاتی کونجوں نے
میرا دکھ تو سنایا ہوگا

میں تو آج بہت رویا ہوں
تو بھی شاید رویا ہوگا

ناصر تیرا میت پرانا
تجھ کو یاد تو آتا ہوگا

ناصر کاظمی

Shayari Nasir kazmi best evers ghazals urdu hindi shayari

तो जब वह मेरे घर आया
मैं एक सपना देख रहा था

तेरे बालों की महक
सारा आंगन महक रहा था

चाँद की मंद रोशनी में
सानोला चुम्बन देती थी

आपकी नींद भी खराब हुई
मैं भी थोड़ा जाग रहा था

मेरे हाथ भी जल रहे थे
तेरा माथा भी जल रहा था

दो आत्माओं के प्यासे बादल
गरज रही थी और बारिश हो रही थी

दो यादों की उठती नदी
उसी सागर में गिरे

दिल की कहानी बयां कर रहा है
रात भीगी भीग रही थी

मैं देर रात सोया लेकिन
आपके सामने जाग गया

नासिर काज़मी

https://shayari-urdu-hindi.com/shayari-level-shayari-urdu-hindi-english-aansu-shayari/

https://cacke-recipe.com/best-vanilla-cake-recipe-the-best-vanilla-cake