Best evers ghazals urdu sad ghazal old new ghazals

Spread the love

Best evers ghazals urdu sad ghazal old new ghazals

دو چار کیا ہیں سارے زمانے کے باوجود
ہم مٹ نہیں سکیں گے مٹانے کے باوجود

یہ راز کاش باد مخالف تو جان لے
کیوں جل رہے ہیں تیرے بجھانے کے باوجود

اب بھی بہت غرور ہے اک ہاتھ پر اسے
اک ہاتھ حادثے میں گنوانے کے باوجود

بزدل تھا مستحق تھا میں مجھ کو سزا ملی
بخشا نہ اس نے ہاتھ اٹھانے کے باوجود

خوابوں کے شوق میں کہیں آنکھیں گنوا نہ دیں
ہم سو رہے ہیں نیند نہ آنے کے باوجود


محبت میں شکایت کر رہا ہوں
شکایت میں محبت کر رہا ہوں
سنا ہے عادتیں مرتی نہیں ہیں
سو خود کو ایک عادت کر رہا ہوں
وہ یوں بھی خوب صورت ہے مگر میں
اسے اور خوب صورت کر رہا ہوں
اداسی سے بھری آنکھیں ہیں اس کی
میں صدیوں سے زیارت کر رہا ہوں
کسے معلوم کب آئے قیامت
سو ہر دن اک قیامت کر رہا ہوں
ضرورت ہی نہیں میری کسی کو
سو خود کو اپنی چاہت کر رہا ہوں

اس طرح بھی کوئی سرگشتہ و برباد نہ ہو
اک فسانہ ہوں جو کچھ یاد ہو کچھ یاد نہ ہو

درد وہ ہے کہ جہاں کو تہ و بالا کر دوں
اس پہ یہ لطف کہ نالہ نہ ہو فریاد نہ ہو

ایک مدّت سے تری بزم سے محروم ہوں میں
کاش وہ چشم عنایت بھی تری یاد نہ ہو

مار ڈالے گی مجھے عافیّت کنج چمن
جوش پرواز کہاں جب کوئی صیّاد نہ ہو

حوصلے عشق کے پامال ہوئے جاتے ہیں
اب یہ بیداد کہیں حسن پہ بیداد نہ ہو

سنا ہے خواب مکمل کبھی نہیں ہوتے
سنا ہے عشق خطا ہے سو کر کے دیکھتے ہیں

حمیرا راحت

Best evers ghazals urdu sad ghazal old new ghazals

اس طرح بھی کوئی سرگشتہ و برباد نہ ہو
اک فسانہ ہوں جو کچھ یاد ہو کچھ یاد نہ ہو

درد وہ ہے کہ جہاں کو تہ و بالا کر دوں
اس پہ یہ لطف کہ نالہ نہ ہو فریاد نہ ہو

ایک مدّت سے تری بزم سے محروم ہوں میں
کاش وہ چشم عنایت بھی تری یاد نہ ہو

مار ڈالے گی مجھے عافیّت کنج چمن
جوش پرواز کہاں جب کوئی صیّاد نہ ہو

حوصلے عشق کے پامال ہوئے جاتے ہیں
اب یہ بیداد کہیں حسن پہ بیداد نہ ہو

مرے دل کے اکیلے گھر میں راحت
اداسی جانے کب سے رہ رہی ہے
حمیرا راحت

https://shayari-urdu-hindi.com/allama-iqbal-poetry-in-urdu-of-pakistan/

https://cacke-recipe.com/creme-egg-cupcakes-recipe-the-best-easy-cake-recipe

جی کے دیکھا ہے مر کے دیکھیں گے
یہ تماشہ بھی کر کے دیکھیں گے

راس آتا نہیں سمٹنا جب
سوچتے ہیں بکھر کے دیکھیں گے

اپنے جلوے وہ آزمائیں گے
حوصلے ہم نظر کے دیکھیں گے

ہم سفر راستوں میں کیا رکنا
منزلوں سے گزر کے دیکھیں گے

نا خدائی کہ آج گہرائی
کشتیوں سے اتر کے دیکھیں گے

بسی ہے سوکھے گلابوں کی بات سانسوں میں
کوئی خیال کسی یاد کے حصار میں ہے

خالدہ عظمیٰ

جشن غم حیات منانے نہیں دیا
اس مفلسی نے زہر بھی کھانے نہیں دیا

ہم نے جو سادہ لوحی میں کھایا کوئی فریب
پھر وہ فریب اوروں کو کھانے نہیں دیا

آندھی نے روشنی کی حمایت تو کی بہت
لیکن کوئی چراغ جلانے نہیں دیا

اک آدھ گھر تو جل گیا پر شہر بچ گیا
اب کے دیے کا ساتھ ہوا نے نہیں دیا

راضی تھا میں بھی اور مرا دشمن بھی صلح پر
کچھ دوستوں نے ہاتھ ملانے نہیں دیا

Best evers ghazals urdu sad ghazal old new ghazals

اس ضد پہ تیرا ظلم گوارا کیا ہم نے
دیکھیں کہ تجھے رحم کہاں تک نہیں آتا

رام ریاض

Best evers ghazals urdu sad ghazal old new ghazals


بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا
پھر اس کے بعد نہ میں تھا نہ میرا سایا تھا
گلی میں لوگ بھی تھے میرے اس کے دشمن لوگ
وہ سب پہ ہنستا ہوا میرے دل میں آیا تھا
اس ایک دشت میں سو شہر ہو گئے آباد
جہاں کسی نے کبھی کارواں لٹایا تھا
وہ مجھ سے اپنا پتا پوچھنے کو آ نکلے
کہ جن سے میں نے خود اپنا سراغ پایا تھا
مرے وجود سے گلزار ہو کے نکلی ہے
وہ آگ جس نے ترا پیرہن جلایا تھا
مجھی کو طعنۂ غارت گری نہ دے پیارے
یہ نقش میں نے ترے ہاتھ سے مٹایا تھا
اسی نے روپ بدل کر جگا دیا آخر
جو زہر مجھ پہ کبھی نیند بن کے چھایا تھا
ظفرؔ کی خاک میں ہے کس کی حسرت تعمیر
خیال و خواب میں کس نے یہ گھر بنایا تھا
ظفر اقبال

مجبوریوں کے نام پہ سب چھوڑنا پڑا
دل توڑنا کٹھن تھا مگر توڑنا پڑا

میری پسند اور تھی سب کی پسند اور
اتنی ذرا سی بات پہ گھر چھوڑنا پڑا

انجم رہبر

urdu poetry photo
غم کی الجھی ہوئی لکیروں میں
اپنی تقدیر دیکھ لیتی ہوں
آئنہ دیکھنا تو بھول گئی
تیری تصویر دیکھ لیتی ہوں
انجم رہبر

urdu ghazals best sad love 2 line poetry photo
یہ کیا کہ تجھے بھی ہے زمانے سے شکایت
یہ کیا کہ تری آنکھ بھی پر نم ہے مری جاں
حبیب جالب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *