rahat indori shayari photo best love sad shayari rahat indori

جنازے پر مرے لکھ دینا یارو
محبت کرنے والا جا رہا ہے

ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے
کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

راحت اندوری

عمر بھر چلتے رہے آنکھوں پہ پٹی باندھ کر
زندگی کو ڈھونڈنے میں زندگی برباد کی

راحت اندوری

آگ اوڑھے تھا مگر بانٹ رہا تھا سایہ
دھوپ کے شہر میں اک تنہا شجر ایسا تھا

راحت اندوری

rahat indori shayari photo best love sad shayari rahat indori

مجھ میں کتنے راز ہیں بتلاؤں کیا
بند ایک مدت سے ہوں کھل جاؤں کیا

عاجزی منت خوشامد التجا
اور میں کیا کیا کروں مرجاؤں کیا

راحت اندوری

shayari photo best love sad shayari rahat indori

زندگی بھر دور رہنے کی سزائیں رہ گئیں
میرے کیسہ میں مری وفائیں رہ گئیں

نوجواں بیٹوں کو شہروں کے تماشے لے اڑے
گاؤں کی جھولی میں کچھ مجبور مائیں رہ گئیں

بجھ گیا وحشی کبوتر کی ہوس کا گرم خون
نرم بستر پر تڑپتی فاختائیں رہ گئیں

ایک اک کر کے ہوئے رخصت مرے کنبے کے لوگ
گھر کے سناٹے سے ٹکراتی ہوائیں رہ گئیں

بادہ خانے شاعری نغمے لطیفے رتجگے
اپنے حصے میں یہی دیسی دوائیں رہ گئیں

راحت اندوری

اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے
یہ سب دھواں ہے کوئی آسمان تھوڑی ہے

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

rahat indori shayari photo best love sad shayari

https://shayari-urdu-hindi.com/poetry-in-urdu-best-2line-poetry-photo-status/

https://cacke-recipe.com/chocolate-chip-cookies-homemade-recipe

میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن
ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے

ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے
ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے

جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے

سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے​

راحت اندوری

rahat indori shayari photo best love sad shayari

یہ خاک زادے جو رہتے ہیں بے زبان پڑے
اشارہ کر دیں تو سورج زمیں پہ آن پڑے

سکوت زیست کو آمادۂ بغاوت کر
لہو اچھال کہ کچھ زندگی میں جان پڑے

ہمارے شہر کی بینائیوں پہ روتے ہیں
تمام شہر کے منظر لہو لہان پڑے

اٹھے ہیں ہاتھ مرے حرمت زمیں کے لیے
مزا جب آئے کہ اب پاؤں آسمان پڑے

کسی مکین کی آمد کے انتظار میں ہیں
مرے محلے میں خالی کئی مکان پڑے

راحت اندوری

Urdu shayari photo

میرے کاروبار میں سب نے بڑی امداد کی
داد لوگوں کی گلا اپنا غزل استاد کی

اپنی سانسیں بیچ کر میں نے جسے آباد کی
وہ گلی جنت تو اب بھی ہے مگر شداد کی

عمر بھر چلتے رہے آنکھوں پہ پٹی باندھ کر
زندگی کو ڈھونڈنے میں زندگی برباد کی

داستانوں کے سبھی کردار کم ہونے لگے
آج کاغذ چنتی پھرتی ہے پری بغداد کی

اک سلگتا چیختا ماحول ہے اور کچھ نہیں
بات کرتے ہو یگانہ کس امین آباد کی

راحت اندوری

ساتھ منزل تھی مگر خوف و خطر ایسا تھا
عمر بھر چلتے رہے لوگ سفر ایسا تھا

جب وہ آئے تو میں خوش بھی ہوا شرمندہ بھی
میری تقدیر تھی ایسی مرا گھر ایسا تھا

حفظ تھیں مجھ کو بھی چہروں کی کتابیں کیا کیا
دل شکستہ تھا مگر تیز نظر ایسا تھا

آگ اوڑھے تھا مگر بانٹ رہا تھا سایہ
دھوپ کے شہر میں اک تنہا شجر ایسا تھا

لوگ خود اپنے چراغوں کو بجھا کر سوئے
شہر میں تیز ہواؤں کا اثر ایسا تھا

راحت اندوری

کالی راتوں کو بھی رنگین کہا ہے میں نے
تیری ہر بات پہ آمین کہا ہے میں نے

تیری دستار پہ تنقید کی ہمت تو نہیں
اپنی پاپوش کو قالین کہا ہے میں نے

مصلحت کہیے اسے یا کہ سیاست کہیے
چیل کوؤں کو بھی شاہین کہا ہے میں نے

ذائقے بارہا آنکھوں میں مزا دیتے ہیں
بعض چہروں کو بھی نمکین کہا ہے میں نے

تو نے فن کی نہیں شجرے کی حمایت کی ہے
تیرے اعزاز کو توہین کہا ہے میں نے

راحت اندوری

سبب وہ پوچھ رہے ہیں اداس ہونے کا
مرا مزاج نہیں بے لباس ہونے کا

نیا بہانہ ہے ہر پل اداس ہونے کا
یہ فائدہ ہے ترے گھر کے پاس ہونے کا

مہکتی رات کے لمحو نظر رکھو مجھ پر
بہانا ڈھونڈ رہا ہوں اداس ہونے کا

میں تیرے پاس بتا کس غرض سے آیا ہوں
ثبوت دے مجھے چہرہ شناس ہونے کا

مری غزل سے بنا ذہن میں کوئی تصویر
سبب نہ پوچھ مرے دیوداس ہونے کا

کہاں ہو آؤ مری بھولی بسری یادو آؤ
خوش آمدید ہے موسم اداس ہونے کا

کئی دنوں سے طبیعت مری اداس نہ تھی
یہی جواز بہت ہے اداس ہونے کا

میں اہمیت بھی سمجھتا ہوں قہقہوں کی مگر
مزا کچھ اپنا الگ ہے اداس ہونے کا

مرے لبوں سے تبسم مذاق کرنے لگا
میں لکھ رہا تھا قصیدہ اداس ہونے کا

پتہ نہیں یہ پرندے کہاں سے آ پہنچے
ابھی زمانہ کہاں تھا اداس ہونے کا

میں کہہ رہا ہوں کہ اے دل ادھر ادھر نہ بھٹک
گزر نہ جائے زمانہ اداس ہونے کا

راحت اندوری

جو منصبوں کے پجاری پہن کے آتے ہیں
کلاہ طوق سے بھاری پہن کے آتے ہیں

امیر شہر تری طرح قیمتی پوشاک
مری گلی میں بھکاری پہن کے آتے ہیں

یہی عقیق تھے شاہوں کے تاج کی زینت
جو انگلیوں میں مداری پہن کے آتے ہیں

ہمارے جسم کے داغوں پہ تبصرہ کرنے
قمیصیں لوگ ہماری پہن کے آتے ہیں

عبادتوں کا تحفظ بھی ان کے ذمے ہے
جو مسجدوں میں سفاری پہن کے آتے ہیں

راحت اندوری

بلاتی ہے مگر جانے کا نئیں
وہ دنیا ہے ادھر جانے کا نئیں

زمیں رکھنا پڑے سر پر تو رکھو
چلو ہو تو ٹھہر جانے کا نئیں

ہے دنیا چھوڑنا منظور لیکن
وطن کو چھوڑ کر جانے کا نئیں

جنازے ہی جنازے ہیں سڑک پر
ابھی ماحول مر جانے کا نئیں

ستارے نوچ کر لے جاؤں گا
میں خالی ہاتھ گھر جانے کا نئیں

مرے بیٹے کسی سے عشق کر
مگر حد سے گزر جانے کا نئیں

وہ گردن ناپتا ہے ناپ لے
مگر ظالم سے ڈر جانے کا نئیں

راحت اندوری

اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے
چراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگے

ترقی کر گئے بیماریوں کے سوداگر
یہ سب مریض ہیں جو اب دوائیں کرنے لگے

لہو لہان پڑا تھا زمیں پر اک سورج
پرندے اپنے پروں سے ہوائیں کرنے لگے

زمیں پر آ گئے آنکھوں سے ٹوٹ کر آنسو
بری خبر ہے فرشتے خطائیں کرنے لگے

جھلس رہے ہیں یہاں چھاؤں بانٹنے والے
وہ دھوپ ہے کہ شجر التجائیں کرنے لگے

عجیب رنگ تھا مجلس کا خوب محفل تھی
سفید پوش اٹھے کائیں کائیں کرنے لگے

راحت اندوری

کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیں
اور ہم کچھ نہیں کرتے ہیں غضب کرتے ہیں

آپ کی نظروں میں سورج کی ہے جتنی عظمت

چراغوں کا بھی اتنا ہی ادب کرتے ہیں

ہم پہ حاکم کا کوئی حکم نہیں چلتا ہے
ہم قلندر ہیں شہنشاہ لقب کرتے ہیں

دیکھیے جس کو اسے دھن ہے مسیحائی کی
آج کل شہر کے بیمار مطب کرتے ہیں

خود کو پتھر سا بنا رکھا ہے کچھ لوگوں نے
بول سکتے ہیں مگر بات ہی کب کرتے ہیں

ایک اک پل کو کتابوں کی طرح پڑھنے لگے
عمر بھر جو نہ کیا ہم نے وہ اب کرتے ہیں

راحت اندوری

لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں
اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں

مے کدہ ظرف کے معیار کا پیمانہ ہے
خالی شیشوں کی طرح لوگ اچھلتے کیوں ہیں

موڑ ہوتا ہے جوانی کا سنبھلنے کے لیے
اور سب لوگ یہیں آ کے پھسلتے کیوں ہیں

نیند سے میرا تعلق ہی نہیں برسوں سے
خواب آ آ کے مری چھت پہ ٹہلتے کیوں ہیں

میں نہ جگنو ہوں دیا ہوں نہ کوئی تارا ہوں
روشنی والے مرے نام سے جلتے کیوں ہیں

راحت اندوری

گھر سے یہ سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہے
اب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہے

جسم سے ساتھ نبھانے کی مت امید رکھو
اس مسافر کو تو رستے میں ٹھہر جانا ہے

موت لمحے کی صدا زندگی عمروں کی پکار
میں یہی سوچ کے زندہ ہوں کہ مر جانا ہے

نشہ ایسا تھا کہ مے خانے کو دنیا سمجھا
ہوش آیا تو خیال آیا کہ گھر جانا ہے

مرے جذبے کی بڑی قدر ہے لوگوں میں مگر
میرے جذبے کو مرے ساتھ ہی مر جانا ہے

راحت اندوری

کہیں اکیلے میں مل کر جھنجھوڑ دوں گا اسے
جہاں جہاں سے وہ ٹوٹا ہے جوڑ دوں گا اسے

مجھے وہ چھوڑ گیا یہ کمال ہے اس کا
ارادہ میں نے کیا تھا کہ چھوڑ دوں گا اسے

بدن چرا کے وہ چلتا ہے مجھ سے شیشہ بدن
اسے یہ ڈر ہے کہ میں توڑ پھوڑ دوں گا اسے

پسینے بانٹتا پھرتا ہے ہر طرف سورج
کبھی جو ہاتھ لگا تو نچوڑ دوں گا اسے

مزہ چکھا کے ہی مانا ہوں میں بھی دنیا کو
سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑ دوں گا اسے

راحت اندوری

روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے
چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے

ایک دیوانہ مسافر ہے مری آنکھوں میں
وقت بے وقت ٹھہر جاتا ہے چل پڑتا ہے

اپنی تعبیر کے چکر میں مرا جاگتا خواب
روز سورج کی طرح گھر سے نکل پڑتا ہے

رو پتھر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیں
روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے

اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

راحت اندوری

آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو

راہ کے پتھر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں منزلیں
راستے آواز دیتے ہیں سفر جاری رکھو

ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو
دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو

آتے جاتے پل یہ کہتے ہیں ہمارے کان میں
کوچ کا اعلان ہونے کو ہے تیاری رکھو

یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے
نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو

یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن
دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو

لے تو آئے شاعری بازار میں راحت میاں
کیا ضروری ہے کہ لہجے کو بھی بازاری رکھو

راحت اندوری

ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے
جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے

اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے
عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے

اب کے مایوس ہوا یاروں کو رخصت کر کے
جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے

رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ورنہ
ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے

میں تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا
تم تو دریا تھے مری پیاس بجھاتے جاتے

مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید
لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے

ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے
کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

راحت اندوری

Rahat indori Shayari urdu hindi

Poetry In Urdu best 2line poetry photo status

اس کی دوری نے چھین لی ہنسی مجھ سے
اور لوگ کہتے ہیں بہت سدھر گیا ہوں میں

بس یونہی چھوڑ دیا اس نے مجھے
ہائےاس نے مجھے آزمایا بھی نہیں

جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے
بہتر یہی ہے آپ مجھے بھول جائیے

کیسے ہوتے ہیں بچھڑنے والے
ہم یہ سوچیں بھی تو ڈر جاتے ہیں

قبول جرم کرتے ہیں صاحب تیرے قدموں میں گر کر
سزاۓ موت ہے منظور پر صاحب تیری جداٸی نہیں

Poetry In Urdu best 2line poetry photo status

Poetry In Urdu best 2line poetry photo status

https://shayari-urdu-hindi.com/motivational-inspirational-quotes-best-motivational/

https://cacke-recipe.com/chocolate-chip-cookies-homemade-recipe

وہ کہکشاں وہ راہگزر دیکھنے چلو
جون اک عمر ہو گئ گھر دیکھنے چلو

رقصاں تھیں زندگی کی طرحداریاں جہاں
دنیائے شوق کا وہ کھنڈر دیکھنے چلو

تاریک ہو گئی ہے نظر عہد ہجر میں
خلد نظر کو ایک نظر دیکھنے چلو

شام کنار بان ہے اب بھی شفق نگار
رنگوں کا موج موج سفر دیکھنے چلو

اک ڈھیر خاک کا ابھی موجود ہے وہاں
وہ طاق وہ رواق وہ در دیکھنے چلو

وہ خواب خواب شہر بلاتا ہے پھر تمہیں
پھر ایک بار خواب سحر دیکھنے چلو

سرکار فارہہ کی حریم تباہ کی
خونیں نواؤ خاک بسر دیکھنے چلو

جس کے تراشنے میں وہ شیریں بھی تھی شریک
وہ اپنا بے ستون ہنر دیکھنے چلو

وہ رنگ کے مزار وہ نکہت کی تربتیں
ہے دیکھنا عذاب مگر دیکھنے چلو

جون اس شکستہ آئینہ خانے کے روبرو
آئینہ لے کے دیدہ تر دیکھنے چلو

جون ایلیا

Poetry In Urdu best 2line poetry photo status

لے کے آیا ہوں تمہارے سامنے سینے کے داغ
دیر سے لو دے رہے تھے بادہ فن کے چراغ

ایک رہرو جا رہا تھا راستے میں بے خیال
دل کو مستقبل کی امیدوں سے بہلاتا ہوا

تم اچانک آئیں اور خاص اک چوراہے کے پاس
اپنی پائل کے ترنم سے اسے چونکا دیا

اور اس سے اسکی میزل کا تصور چھین کر
ایک بے مقصد سفر کے عہد و پیماں کر لیے

اب تمہاری رہبری تھی اور تخّیل کا فریب
راستے بدلے گئے اور کارواں بڑھنے لگے

ذہن پر چھاتا گیا رنگین خوابوں کا فسوں
زندگی کرنے لگی خوابوں کے گلزاروں میں رقص

رات کی تنہائیوں میں شہر انجم کے سفر
کہکشاں تا کہکشاں نادیدہ سیاروں میں رقص

مجھ کو بخشے تھے انھیں نظروں نے میخانوں کے خواب
عارض و گیسو سے وابستہ شبستانوں کے خواب

ساحل آغوش سر مستی میں طوفانوں کے خواب
کیا مگر خوابوں کا حاصل وہ بھی دیوانوں کے خواب

اور پھر وہ دور بھی آیا کہ تم اکتا گئیں
اپنی حد سے بڑھ گئی تھیں اپنی حد میں آگئیں

میں فریب آرزو کھاتا رہا جیتا رہا
زہر غم پیتا رہا پیتا رہا پیتا رہا

چاک کرتی ہی رہیں تم جیب و دامان وفا
اور میں سہتا رہا سہتا رہا سہتا رہا

جانے کیوں تم مستقل دامن کشاں رہنے لگیں
بے سبب نامہرباں نامہرباں رہنے لگیں

بھول کر عہد نظر جانے کہاں پہنچا خیال
چھوڑ کر شہر وفا جانے کہاں رہنے لگیں

آہ وہ ناز محبت کا یقین و اعتبار
میں نے تم کو دم بدم آواز پر آواز دی

پھر حدود حسرت و امید تک ڈھونڈا تمہیں
روح کی وادی میں دل کے ساز پر آواز دی

لوگ کہتے ہیں یقینا ٹھیک ہی کہتے ہیں لوگ
میں فقط وہموں کی دنیا میں سفر کرتا رہا

میں نے چاہی بجلیوں سے خرمن اندوزی کی داد
پتھروں سے خواہش لطف نظر کرتا رہا

کیا تمہارے شہر میں لے کر دعاؤں کے حصار
نوجوانی کو مٹانے کے لیے آیا تھا میں

کیا شعور زندگی کی داد پانے کی بجائے
میکدوں میں لڑکھڑانے کے لیے آیا تھا میں

اب شعور زندگی کو آزمانے دو مجھے
کچھ حجابات مزاج دل اٹھانے دو مجھے

ایک ہی رخ تم نے دیکھا ہے ابھی تصویر کا
آج اسکا دوسرا رخ بھی دکھانے دو مجھے

تم کو اپنایا تھا تم کو چھوڑ بھی سکتا ہوں میں
بت بناتا ہی نہیں ہوں توڑ بھی سکتا ہوں میں

جون ایلیا

Urdu poetry best 2line poetry photo sad status

Urdu poetry best 2line poetry photo sad status

محبت جب سکون زندگی برباد کرتی ہے
تو لب خاموش رہتے ہیں نظر فریاد کرتی ہے

سمجھدار ہی کرتے ہیں غلطیاں صاحب
کبھی کسی پاگل کو دیکھا ہے محبت کرتے

یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی
لوگ مر جاتے ہے قردار نبھاتے نبھاتے

محبت اور موت کی پسند تو دیکھو
ایک کو دل چاہیے دوسرے کو دھڑکن

اترتا نہیں موت سے پہلے
عشق ایسا بخار ہے سائیں

Urdu poetry best 2line poetry photo sad status

https://shayari-urdu-hindi.com/motivational-inspirational-quotes-best-motivational/

https://cacke-recipe.com/cheesecake-minis-mini-cheesecakes-homemade-recipe

عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی

جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی

میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی

اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی

Best 2line poetry

بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے
ہماری زندگی برباد کر کے

پلٹ کر پھر یہیں آ جائیں گے ہم
وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کر کے

رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے
مگر ہاں منت صیاد کر کے

بدن میرا چھوا تھا اس نے لیکن
گیا ہے روح کو آباد کر کے

ہر آمر طول دینا چاہتا ہے
مقرر ظلم کی میعاد کر کے

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح

راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح

ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک
اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح

وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے
تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح

غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح

یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح

کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
گاہے گاہے ترے دلچسپ جوابوں کی طرح

ہجر کی شب مری تنہائی پہ دستک دے گی
تیری خوش بو مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
اس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا

اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش
پھر شاخ پہ اس پھول کو کھلتے نہیں دیکھا

یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں
جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا

کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم آئے گی لیکن
تتلی کے پروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا

کس طرح مری روح ہری کر گیا آخر
وہ زہر جسے جسم میں کھلتے نہیں دیکھا

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے
میں جانتی تھی پال رہی ہوں سنپولیے

بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی
اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے

پلکوں پہ کچی نیندوں کا رس پھیلتا ہو جب
ایسے میں آنکھ دھوپ کے رخ کیسے کھولیے

تیری برہنہ پائی کے دکھ بانٹتے ہوئے
ہم نے خود اپنے پاؤں میں کانٹے چبھو لیے

میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی
سب لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو رو لیے

خوش بو کہیں نہ جائے پہ اصرار ہے بہت
اور یہ بھی آرزو کہ ذرا زلف کھولیے

تصویر جب نئی ہے نیا کینوس بھی ہے
پھر طشتری میں رنگ پرانے نہ گھولیے

رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی
سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی

خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے
زخمی تھا بہت پاؤں مسافت بھی بہت تھی

سب دوست مرے منتظر پردۂ شب تھے
دن میں تو سفر کرنے میں دقت بھی بہت تھی

بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے
جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی

کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے
اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی

پھولوں کا بکھرنا تو مقدر ہی تھا لیکن
کچھ اس میں ہواؤں کی سیاست بھی بہت تھی

وہ بھی سر مقتل ہے کہ سچ جس کا تھا شاہد
اور واقف احوال عدالت بھی بہت تھی

اس ترک رفاقت پہ پریشاں تو ہوں لیکن
اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی

خوش آئے تجھے شہر منافق کی امیری
ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی

Motivational inspirational quotes best Motivational

جو دروازے آپ پر بند ہوجائیں انھیں کھٹکھٹا کر اپنی عزتِ نفس نہ گرائیں

میں خود ایک آگ ہوں مجھے کسی سے جلنے کی ضرورت نہیں ہے

میری پہچان ہے میرا حسن سلوک میری شہرت میری تصویر کی محتاج نہیں

Motivational inspirational quotes best Motivational

اوقات نہیں ہے آنکھ سے آنکھ ملانے کی۔ لوگ نام مٹانے کی بات کرتے ہیں

ہم سے گفتگو کرنی ہے تو لہجہ نرم ہی رکھنا صاحب۔ ہم باتوں سے ذات اور حرکتوں سے اوقات پہچان لیا کرتے ہیں

دوست ہم خود بناتے ہیں اور دشمن ہماری پرسنیلٹی دیکھ کر بن جاتے ہیں

ہم پیدا ہی اس خاندان میں ہوئے ہیں جس کا نہ تو دل کمزور ہے. اور نہ ہی خون.

Motivational inspirational quotes best Motivational

شاید تم ناواقف ہو میرے مزاج سے تیری توقع سے بھی زیادہ سر پھرا ہوں

جن سے تم مل کر غرور کرتے ہو وه ہم سے ملنے کو ترستے ہیں

مجھ کو اڑتا ہوا دیکھا تو پریشان لگا وہ تو ٹوٹے ہوئے پر دیکھنے آیا تھا میرے

چہروں کو بے نقاب کرنے میں اے برے وقت تیرا سو بار شکریہ

وقت کے سمجھانے کا طریقہ سخت اور تلخ ہوتا ھے مگر۔۔۔۔ اسکی سمجھائی بات ساری عمر کیلئے سمجھ میں آجاتی ھے۔۔۔۔

میرے ساتھ بیٹھ کر وقت بھی رویا ایک دن بولا بندہ تو ٹھیک ہے میں ہی خراب چل رہا ہوں

کچھ نہیں ملتا جتنی مرضی وفا کرلو کسی سے جب وقت وفا نہ کرے تو وفادار بھی بے وفا ہو جاتے ہیں

https://shayari-urdu-hindi.com/john-elia-poetry-urdu-poetry-john-elia-best-shayari/

ہر روتا ہوا لمحہ مسکرائے گا صبر رکھ اے دوست وقت اپنا بھی آئے گا

https://cacke-recipe.com/birthday-cake-recipe-homemade-malakow-cake-recipe

سب دیکھ رہا ہوں سب سمجھ رہا ہوں خاموش اس لیے ہو کیونکہ ابھی میرا وقت نہیں آیا ہے

‏وقت نے بتا دیا ہے لوگوں کا میعار ورنہ ہم بھی وہ تھے جو سب کو اپنا کہتے تھے

زخم چھپانے کا ہنر سیکھو ورنہ یہاں ہر دوسرا انسان ہاتھ میں نمک لئے پھرتا ہے۔

‏مفادات کی عینک اتار کے دیکھ لیجئے دنیا میں بہت اچھے اچھے انسان ملیں گے

john elia poetry urdu poetry John elia best shayari

مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں
اس دورِ ناگوار میں جینا کمال ہے

john elia poetry urdu poetry John elia best shayari

اب مجھ کو کو ئی دِلا ئے نہ محبت کا یقین
جو مجھے بُھو ل نہیں سکتے تھے وہی بُھو ل گئے

ہ مجھے چَین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا؟

john elia poetry urdu poetry John elia best shayari

اِک تیری برابری کے لئے
خو د کو کتنا گِرا چُکا ہوں میں

https://shayari-urdu-hindi.com/urdu-poetry-best-2line-poetry-photo-sad-ghazals/

https://cacke-recipe.com/cake-recipe-all-recipe-homemade-pear-pie-recipe

جانے کیا وا قعہ ہے ہو نے کو
جی چا ہتا ہے رونے کو

تم جب آؤ گی ، تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ھے مجھ پر
ان میں اک رمز ھے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مژدہ عشرتِ انجام نہیں پا سکتا
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا

میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوں
شاید، جانِ جاں شاید
کہ اب تم مجھ کو پہلے سے زیادہ یاد آتی ہو
ہے دل غمگیں، بہت غمگیں
کہ اب تم یاد دل وارانہ آتی ہو
شمیم دور ماندہ ہو
بہت رنجیدہ ہو مجھ سے
مگر پھر بھی
مشامِ جاں میں میرے آشتی مندانہ آتی ہو
جدائی میں بلا کا التفاتِ محرمانہ ہے
قیامت کی خبر گیری ہے
بےحد ناز برداری کا عالم ہے
تمہارے رنگ مجھ میں اور گہرے ہوتے جاتے ہیں
میں ڈرتا ہوں
میرے احساس کے اس خواب کا انجام کیا ہوگا
یہ میرے اندرونِ ذات کے تاراج گر
جذبوں کے بیری وقت کی سازش نہ ہو کوئی
تمہارے اس طرح ہر لمحہ یاد آنے سے
دل سہما ہوا سا ہے
تو پھر تم کم ہی یاد آؤ
متاعِ دل، متاعِ جاں تو پھر تم کم ہی یاد آؤ
بہت کچھ بہہ گیا ہے سیلِ ماہ و سال میں اب تک
سبھی کچھ تو نہ بہہ جائے
کہ میرے پاس رہ بھی کیا گیا ہے
کچھ تو رہ جائے

زخمِ اُمید بھر گیا کب کا
قیس تو اپنے گھر گیاکب کا

اب تو منہ اپنا مت دکھاؤ مجھے
ناصحو میں سُدھر گیا کب کا

آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں
دل مری جان مر گیا کب کا

آپ اک اور نیند لے لیجئے
قافلہ کوچ کر گیا کب کا

میرا فہرست سے نکال دو نام
میں تو خود سے مُکر گیا کب کا

جون ایلیا

Urdu poetry best 2line poetry photo sad ghazals

Urdu poetry best 2line poetry photo sad ghazals

کھول رکھا ہے یہ دروازۂ دل تیرے لیے
کاش تو دیکھ سکے روح کی گہرائی تک

شہزاد احمد

تو بھی نہ مل سکا ہمیں عمر بھی رائیگاں گئی
تجھ سے تو خیر عشق تھا خود سے بڑے گلے رہے

سلیم کوثر

Urdu poetry best 2line poetry photo sad ghazals

https://shayari-urdu-hindi.com/love-shayari-images-sad-shayari-photo-status/

https://cacke-recipe.com/all-recipe-quick-roll-of-lemon-homemade-recipe

کئی دنوں سے میں خود کی تلاش میں گم ہوں
کہیں میں تم کو ملوں تو مجھے خبر کرنا

ڈاکٹر شاہد فراز

ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کا
ایک دروازہ سا کھلتا ہے کتب خانے کا

ایک سناٹا دبے پاؤں گیا ہو جیسے
دل سے اک خوف سا گزرا ہے بچھڑ جانے کا

بلبلہ پھر سے چلا پانی میں غوطے کھانے
نہ سمجھنے کا اسے وقت نہ سمجھانے کا

میں نے الفاظ تو بیجوں کی طرح چھانٹ دیئے
ایسا میٹھا ترا انداز تھا فرمانے کا

کس کو روکے کوئی رستے میں کہاں بات کرے
نہ تو آنے کی خبر ہے نہ پتا جانے کا

گلزار

موت نے مسکرا کے پوچھا ہے
زندگی کا مزاج کیسا ہے

اس کی آنکھوں میں میری غزلیں ہیں
میری غزلوں میں اس کا چہرا ہے

اس سے پوچھو عذاب رستوں کا
جس کا ساتھی سفر میں بچھڑا ہے

چاندنی صرف ہے فریب نظر
چاند کے گھر میں بھی اندھیرا ہے

عشق میں بھی مزہ ہے جینے کا
غم اٹھانے کا گر سلیقہ ہے

چھوڑ زخموں پہ تبصرہ کرنا
اب قلم سے لہو ٹپکتا ہے

روشنی کی زبان میں دانا
وہ چراغوں سے بات کرتا ہے

عباس دانا

Urdu poetry best 2line poetry photo sad ghazals

جو ہیں مظلوم ان کو تو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں
یہ کیسا شہر ہے ظالم کو زندہ چھوڑ دیتے ہیں

انا کے سکے ہوتے ہیں فقیروں کی بھی جھولی میں
جہاں ذلت ملے اس در پہ جانا چھوڑ دیتے ہیں

ہوا کیسا اثر معصوم ذہنوں پر کہ بچوں کو
اگر پیسے دکھاؤ تو کھلونا چھوڑ دیتے ہیں

اگر معلوم ہو جائے پڑوسی اپنا بھوکا ہے
تو غیرت مند ہاتھوں سے نوالہ چھوڑ دیتے ہیں

مہذب لوگ بھی سمجھے نہیں قانون جنگل کا
شکاری شیر بھی کوؤں کا حصہ چھوڑ دیتے ہیں

پرندوں کو بھی انساں کی طرح ہے فکر روزی کی
سحر ہوتے ہی اپنا آشیانہ چھوڑ دیتے ہیں

تعجب کچھ نہیں دانا جو بازار سیاست میں
قلم بک جائیں تو سچ بات لکھنا چھوڑ دیتے ہیں

عباس دانا

Urdu poetry best 2line poetry photo sad ghazals

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا

کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا
مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا

ہنسا ہنسا کے شب وصل اشک بار کیا
تسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا

یہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیا
کہ دل سے شور اٹھا ہائے بے قرار کیا

سنا ہے تیغ کو قاتل نے آب دار کیا
اگر یہ سچ ہے تو بے شبہ ہم پہ وار کیا

نہ آئے راہ پہ وہ عجز بے شمار کیا
شب وصال بھی میں نے تو انتظار کیا

تجھے تو وعدۂ دیدار ہم سے کرنا تھا
یہ کیا کیا کہ جہاں کو امیدوار کیا

یہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مآل اندیش
انہوں نے وعدہ کیا اس نے اعتبار کیا

کہاں کا صبر کہ دم پر ہے بن گئی ظالم
بہ تنگ آئے تو حال دل آشکار کیا

تڑپ پھر اے دل ناداں کہ غیر کہتے ہیں
اخیر کچھ نہ بنی صبر اختیار کیا

ملے جو یار کی شوخی سے اس کی بے چینی
تمام رات دل مضطرب کو پیار کیا

بھلا بھلا کے جتایا ہے ان کو راز نہاں
چھپا چھپا کے محبت کو آشکار کیا

نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتا
صبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیا

ہم ایسے محو نظارہ نہ تھے جو ہوش آتا
مگر تمہارے تغافل نے ہوشیار کیا

ہمارے سینے میں جو رہ گئی تھی آتش ہجر
شب وصال بھی اس کو نہ ہمکنار کیا

رقیب و شیوۂ الفت خدا کی قدرت ہے
وہ اور عشق بھلا تم نے اعتبار کیا

زبان خار سے نکلی صدائے بسم اللہ
جنوں کو جب سر شوریدہ پر سوار کیا

تری نگہ کے تصور میں ہم نے اے قاتل
لگا لگا کے گلے سے چھری کو پیار کیا

غضب تھی کثرت محفل کہ میں نے دھوکہ میں
ہزار بار رقیبوں کو ہمکنار کیا

ہوا ہے کوئی مگر اس کا چاہنے والا
کہ آسماں نے ترا شیوہ اختیار کیا

نہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیں
وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا

جب ان کو طرز ستم آ گئے تو ہوش آیا
برا ہو دل کا برے وقت ہشیار کیا

فسانۂ شب غم ان کو اک کہانی تھی
کچھ اعتبار کیا کچھ نہ اعتبار کیا

اسیری دل آشفتہ رنگ لا کے رہی
تمام طرۂ طرار تار تار کیا

کچھ آ گئی داور محشر سے ہے امید مجھے
کچھ آپ نے مرے کہنے کا اعتبار کیا

کسی کے عشق نہاں میں یہ بد گمانی تھی
کہ ڈرتے ڈرتے خدا پر بھی آشکار کیا

فلک سے طور قیامت کے بن نہ پڑتے تھے
اخیر اب تجھے آشوب روزگار کیا

وہ بات کر جو کبھی آسماں سے ہو نہ سکے
ستم کیا تو بڑا تو نے افتخار کیا

بنے گا مہر قیامت بھی ایک خال سیاہ
جو چہرہ داغ سیہ رو نے آشکار کیا

داغ دہلوی

Shayari photo Love shayari images best poetry

Shayari photo Love shayari images best poetry

Kaun kehta hai ye Dil Pagal hai,
Pagalpan to bas ek Bahaana hai,
Ek bar Muskura kar to Dekho lo,
Ye Pagal Dil Tumhara Deewana hai..

Hasraton se Apki Raah Sajaa Denge,
Sapnon ki Doulat Aap par Luta Denge,
Na koi Phool hai aaj Mere Damaan Mein,
Lekin Aapke aane par Palkein Bichcha Denge..

Hamari dosti ka kitna faida uthhatay ho,
1msg bhej ke10 free pate ho,
hamare dil par kyon zulm dhate ho,
hamare msg forward kar k naye -naye dost banate ho.

Shayari photo Love shayari images best poetry

Baadnam to ho gaye hai, Hum Tumhare Pyaar me,
Pataa Nahi Kya – Kya Likhtey hai, Tumhare Intezaar me..

https://shayari-urdu-hindi.com/love-shayari-images-sad-shayari-photo-status/

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے

بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے

بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے

سورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میں
زلف شب فراق کے پیچاک ہو گئے

جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئی
لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے

قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی
پر میں کیا کرتی کہ زنجیر ترے نام کی تھی

جس کے ماتھے پہ مرے بخت کا تارہ چمکا
چاند کے ڈوبنے کی بات اسی شام کی تھی

میں نے ہاتھوں کو ہی پتوار بنایا ورنہ
ایک ٹوٹی ہوئی کشتی مرے کس کام کی تھی

وہ کہانی کہ ابھی سوئیاں نکلیں بھی نہ تھیں
فکر ہر شخص کو شہزادی کے انجام کی تھی

یہ ہوا کیسے اڑا لے گئی آنچل میرا
یوں ستانے کی تو عادت مرے گھنشیام کی تھی

بوجھ اٹھاتے ہوئے پھرتی ہے ہمارا اب تک
اے زمیں ماں تری یہ عمر تو آرام کی تھی

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشن طرب میں ہم
ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا

جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود
سر زیر بار ساغر و بادہ نہیں کیا

کار جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام
اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا

آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں
اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا

Love shayari images sad shayari photo status

Meri Diwaangi ki koi Hadd Nahin,
Teri Suraat ke Siva Kuchh Yaad Nahin,
Mein hu Phool Tere Gulshaan Ka,

Tere Siva Mujh pe Kisi ka HAQQ Nahin..

Khushi se dil ko aabad karna…
Aur gham ko dil se azad karna,
Hamari bus itni gujarish hai ke hame bhi
Din me ek baar YAAD karna…

Dil Ne Jise zindagi bhar Chaha Hai
Aaj Karunga Mai Unse Ikrar,
Jiski Sadiyo Se Tammanah Ki Hai,
Unse Karunga Mere Pyar Ka Izhaar..!!

Ajeeb Si Kashish Hai Aap Me
Ki Hum Aap Ke Khayalon Me Khoye Rehte Hai
Ye Soch Kar Ke Aap Khawabo Me Aao Gay
Hum Din Me Bhi Soya Karte Hai

Love shayari images sad shayari photo status

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
تم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے

تم ہی نہ سن سکے اگر قصۂ غم سنے گا کون
کس کی زباں کھلے گی پھر ہم نہ اگر سنا سکے

ہوش میں آ چکے تھے ہم جوش میں آ چکے تھے ہم
بزم کا رنگ دیکھ کر سر نہ مگر اٹھا سکے

رونق بزم بن گئے لب پہ حکایتیں رہیں
دل میں شکایتیں رہیں لب نہ مگر ہلا سکے

شوق وصال ہے یہاں لب پہ سوال ہے یہاں
کس کی مجال ہے یہاں ہم سے نظر ملا سکے

ایسا ہو کوئی نامہ بر بات پہ کان دھر سکے
سن کے یقین کر سکے جا کے انہیں سنا سکے

عجز سے اور بڑھ گئی برہمی مزاج دوست
اب وہ کرے علاج دوست جس کی سمجھ میں آ سکے

اہل زباں تو ہیں بہت کوئی نہیں ہے اہل دل
کون تری طرح حفیظ درد کے گیت گا سکے

حفیظ جالندھری

https://shayari-urdu-hindi.com/rahat-indori-shayari-best-sad-ghazals-poetry/

Love shayari images sad shayari photo status

شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کو
اس سے کیا فرق پڑے گا ترے دیوانے کو

کیا کوئی کھیل ہے بے نام و نشاں ہو جانا
ویسے تو شمع بھی تیار ہے جل جانے کو

وہ عجب شخص تھا کل جس سے ملاقات ہوئی
میں ملا ہوں کسی جانے ہوئے ان جانے کو

ایک لمحہ بھی تو بے کار نہیں کٹ سکتا
ایک گتھی جو ملی ہے مجھے سلجھانے کو

یہ الگ بات کہ اک بوند مقدر میں نہ تھی
سر پہ سو بار گھٹا چھائی رہی چھانے کو

شام ہونے کو ہے جلنے کو ہے شمع محفل
سانس لینے کی بھی فرصت نہیں پروانے کو

شہزاد احمد

love shayari photo sad shayari love status ghazals

love shayari photo sad shayari love status ghazals

شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کو
اس سے کیا فرق پڑے گا ترے دیوانے کو

کیا کوئی کھیل ہے بے نام و نشاں ہو جانا
ویسے تو شمع بھی تیار ہے جل جانے کو

وہ عجب شخص تھا کل جس سے ملاقات ہوئی
میں ملا ہوں کسی جانے ہوئے ان جانے کو

ایک لمحہ بھی تو بے کار نہیں کٹ سکتا
ایک گتھی جو ملی ہے مجھے سلجھانے کو

یہ الگ بات کہ اک بوند مقدر میں نہ تھی
سر پہ سو بار گھٹا چھائی رہی چھانے کو

شام ہونے کو ہے جلنے کو ہے شمع محفل
سانس لینے کی بھی فرصت نہیں پروانے کو

شہزاد احمد

یہ زندگی تو کہیں ختم ہی نہیں ہوتی
اب اور کتنے دنوں یہ عذاب اٹھاؤں میں

محمد علوی

غم کے سانچے میں ڈھل سکو تو چلو
تم مرے ساتھ چل سکو تو چلو

دور تک تیرگی میں چلنا ہے
صورت شمع جل سکو تو چلو

حبیب جالب

love shayari photo sad shayari love status ghazals

کتنی بے نور تھی دن بھر نظر پروانہ
رات آئی تو ہوئی ہے سحر پروانہ

شمع جلتے ہی یہاں حشر کا منظر ہوگا
پھر کوئی پا نہ سکے گا خبر پروانہ

بجھ گئی شمع کٹی رات گئی سب محفل
اب اکیلے ہی کٹے گا سفر پروانہ

رات بھر بزم میں ہنگامہ ہی ہنگامہ تھا
صرف خاموشی ہے اب نوحہ گر پروانہ

ساری مخلوق تماشے کے لیے آئی تھی
کون تھا سیکھنے والا ہنر پروانہ

آسماں سرخ ہے سورج بھی ابھی ڈوبا ہے
ابھی روشن نہ کرو رہ گزر پروانہ

نہ سہی جسم مگر خاک تو اڑتی پھرتی
کاش جلتے نہ کبھی بال و پر پروانہ

شمع کیا چیز ہے جلتی تو کہاں تک جلتی
ابھی زندہ ہے دل بے خطر پروانہ

ہائے وہ حسن کہ جس کا کوئی مشتاق نہیں
ہائے وہ شمع کہ ہے بے خبر پروانہ

جس طرح گزرے گی یہ رات گزر جائے گی
مدتوں یاد رہے گا اثر پروانہ

ایک ہی جست میں طے ہو گئی منزل شہزاد
کتنے آرام سے گزرا سفر پروانہ

شہزاد احمد

https://shayari-urdu-hindi.com/love-shayari-photo-heart-touching-shayari-image-2/

دل و نظر پہ ترے بعد کیا نہیں گزرا
تجھے گماں کہ کوئی حادثہ نہیں گزرا

وہاں وہاں بھی مجھے لے گیا ہے شوق سفر
کبھی جہاں سے کوئی قافلہ نہیں گزرا

اگرچہ تو بھی نہیں اب دلوں کی دنیا میں
مگر یہاں کوئی تیرے سوا نہیں گزرا

ہم اب تو اس کو بھی اک حادثہ سمجھتے ہیں
خیال تھا کہ کوئی حادثہ نہیں گزرا

کبھی کبھی نظر آئی امید بھی شہزاد
ہمارا وقت کبھی ایک سا نہیں گزرا

شہزاد احمد

Shayari parveen shakir ghazals love shayari status

بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے
ہماری زندگی برباد کر کے

پلٹ کر پھر یہیں آ جائیں گے ہم
وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کر کے

رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے
مگر ہاں منت صیاد کر کے

بدن میرا چھوا تھا اس نے لیکن
گیا ہے روح کو آباد کر کے

ہر آمر طول دینا چاہتا ہے
مقرر ظلم کی میعاد کر کے

Shayari parveen shakir ghazals love shayari status

https://cacke-recipe.com/all-recipe-quick-roll-of-lemon-homemade-recipe

جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا
کسی بھی رت میں ہرا ہو یہ وہ درخت نہ تھا

وہ خواب دیکھا تھا شہزادیوں نے پچھلے پہر
پھر اس کے بعد مقدر میں تاج و تخت نہ تھا

ذرا سے جبر سے میں بھی تو ٹوٹ سکتی تھی
مری طرح سے طبیعت کا وہ بھی سخت نہ تھا

مرے لیے تو وہ خنجر بھی پھول بن کے اٹھا
زبان سخت تھی لہجہ کبھی کرخت نہ تھا

اندھیری راتوں کے تنہا مسافروں کے لیے
دیا جلاتا ہوا کوئی ساز و رخت نہ تھا

گئے وہ دن کہ مجھی تک تھا میرا دکھ محدود
خبر کے جیسا یہ افسانہ لخت لخت نہ تھا

Shayari parveen shakir ghazals love shayari status

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں
آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں

شام بھی ہو گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری
بھولنے والے میں کب تک ترا رستا دیکھوں

ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں
آج میں خود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں

کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر
اتنے غیروں میں وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں

تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جان حیات
جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں

بند کر کے مری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے
بوجھے جانے کا میں ہر روز تماشا دیکھوں

سب ضدیں اس کی میں پوری کروں ہر بات سنوں
ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں

مجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح
انگ انگ اپنا اسی رت میں مہکتا دیکھوں

پھول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کھل جائے
پنکھڑی پنکھڑی ان ہونٹوں کا سایا دیکھوں

میں نے جس لمحے کو پوجا ہے اسے بس اک بار
خواب بن کر تری آنکھوں میں اترتا دیکھوں

تو مری طرح سے یکتا ہے مگر میرے حبیب
جی میں آتا ہے کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں

ٹوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے
تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں

https://shayari-urdu-hindi.com/shayari-photo-love-shayari-images-sad-shayari/

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی