dard bhari shayari photo Love shayari images sad

Spread the love

dard bhari shayari photo Love shayari images sad

مت پوچھنا کہ درد کس کس نے دیا
ورنہ کچھ اپنوں کے سر بھی جھک جائنگے

ہمیں آتی نہیں یہ پیار بھری شاعری
جس نے درد سننا ہو آ جائے محفل میں

بہُت ہی زیادہ شوق تھا انہیں میرا آشیانہ دیکھنے کا
دیکھی جب غریبی میری تو اپنا راستہ بدل لیا

ہم نے سمیٹے ہیں درد دنیا کے
تم سے ایک ہم نہ سمبھالے گئے

درد میں بھی آواز ہوتی ہے
کبھی غور کرنا میرے لفظوں پر

https://shayari-urdu-hindi.com/sad-shayari-love-shayari-heart-touching-poetry-image/

سنا ہے درد کا احساس اپنوں کو ہوتا هے
جب درد اپنے دیں، تو احساس کون کرے گا

اگر درد تحریر ہوتا
تو لفظوں کے جنازے نکلتے

بہت سخی ہے یہ بازار محبت
یہاں قدم قدم پر درد ہی درد ملتا

https://cacke-recipe.com/cheesecake-homemade-baked-cake-recipe-cheesecakes

تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا
اسے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا تھا

وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی
اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

متاع جاں کا بدل ایک پل کی سرشاری
سلوک خواب کا آنکھوں سے تاجرانہ تھا

ہوا کی کاٹ شگوفوں نے جذب کر لی تھی
تبھی تو لہجۂ خوشبو بھی جارحانہ تھا

وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصل
نئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھا

قبائے زرد نگار خزاں پہ سجتی تھی
تبھی تو چال کا انداز خسروانہ تھا

افتخار عارف

dard bhari shayari photo Love shayari images sad

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں
شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے
ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

کبھی مل جائے تو رستے کی تھکن جاگ پڑے
ایسی منزل سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے

وہی پیماں جو کبھی جی کو خوش آیا تھا بہت
اسی پیماں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے
افتخار عارف

راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں
چاند سے مکھڑے رشک غزالاں سب جانے پہچانے ہیں

تنہائی سی تنہائی ہے کیسے کہیں کیسے سمجھائیں
چشم و لب و رخسار کی تہ میں روحوں کے ویرانے ہیں

اف یہ تلاش حسن و حقیقت کس جا ٹھہریں جائیں کہاں
صحن چمن میں پھول کھلے ہیں صحرا میں دیوانے ہیں

ہم کو سہارے کیا راس آئیں اپنا سہارا ہیں ہم آپ
خود ہی صحرا خود ہی دوانے شمع نفس پروانے ہیں

بالآخر تھک ہار کے یارو ہم نے بھی تسلیم کیا
اپنی ذات سے عشق ہے سچا باقی سب افسانے ہیں
ابن صفی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *