Ghazal sad love ghazals best status hits image gajal

Spread the love

Ghazal sad love ghazals best status hits image gajal

ﺗﯿﺮﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮧ ﺑﮍﮬﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﭼﻼ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ،
ﺍﺷﮏ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﭼﻼ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ،

ﯾﮧ ﺟﻮ ﻣﻘﺘﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﺷﮧ ﮨﮯ ﺯﺭﺍ ﺭﮎ ﺟﺎﺋﮯ،
ﻻﺵ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭨﮭﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﭼﻼ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ،

قطرہ قطرہ جو ٹپکتا ہے تیرا غم مجھ میں،
کِسی روز تیرے درد سے بھر جاؤنگا مرجاؤنگا..!!

ہم کسی دوست کو تنہا کبھی چھوڑا نہیں کرتے
آپ جیسے پیارے دوستوں سے منہ موڑا نہیں کرتے

شکوے نہ شکایتیں ہوں گی محبت بھری باتیں
دوست کا دل ہم کبھی توڑا نہیں کرتے

کوئی صلہ نہ مانگیں گےاپنی وفاؤں کا
غم میں بھی ہم دل کبھی تھوڑا نہیں کرتے

تیری یاد آئے تو ملنے کی دعا کرتے ہیں
دیواروں سے سر کبھی پھوڑا نہیں کرتے

جن لوگوں کی طبیعت میں سادگی نہ ہواصغر
ان سے دوستی کا رشتہ ہم جوڑا نہیں کرتے

وقت بدلتا ہے زندگی کے ساتھ
زندگی بدلتی ہے محبت کے ساتھ

محبت بدلتی نہیں اپنوں کے ساتھ
اپنے بدل جاتے ہیں وقت کے ساتھ

چھوڑو بدلتے وقت کی باتیں
سن لو میرے دل کی بات

وعدہ رہا یہ تمھا ر ے ساتھ
چھوڑوں گا نا تب تک تیرا ساتھ
دوگی جب تک تم میرا ساتھ

Ghazal sad love ghazals best status hits image gajal

ہر سوال بہت ہی عجیب وہ پوچھتا ہے
ہر ایک بات کا مجھ سے سبب وہ پوچھتا ہے

ہوں جس کے لئے جیتی اور جس کے لئے مرتی
جینے کا میرے مجھ سے سبب وہ پوچھتا ہے

فقط اسکی ذات میری خوشیوں کا محور ہے
خوش ہونے کا میرے مجھ سے سبب وہ پوچھتا ہے

وہ جانتا ہے اظہار کی عادت نہیں مجھ کو
اور تعلق کا میرے خود سے سبب وہ پوچھتا ہے

رہتا ہے آجکل وہ بہت دور دور مجھ سے
اداس رہنے کا مجھ سے سب وہ پوچھتا ہے

ہے آجکل بہت ہی وہ بدگمان مجھ سے اور
رونے کا مجھ سے سبب وہ پوچھتا ہے

ڈال کر اپنی عادت مجھ کو وہ دور جا رہا ہے
زندگی سے اکتانے کا امشال سبب وہ پوچھتا ہے

Ghazal sad love ghazals best status hits image gajal

اے دوست میری کیوں روتی ہو
کیوں دکھ کو من میں بوتی ہو

غم بن مانگے مل جاتے ہیں
سب جھولی بھر کے پاتے ہیں

یہ جو تمہاری آنکھیں ہیں
یہ مجھ کو کتنی پیاری ہیں

تم جانت گر اے دوست میری
یوں چپکے چپکے نا روتیں
تم ان کو پی کر جیتی ہو

یہ تم کو توڑ کے رکھ دینگی
اور تنہا چھوڑ کے چل دینگی

میں اسی لیے تو کہتا ہوں
تم ہنستی اچھی لگتی ہو

تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا
یہ کم نہیں ہمیں جینے کا حوصلہ تو رہا

گزر ہی آئے کسی طرح تیرے دیوانے
قدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا

چلو نہ عشق ہی جیتا نہ عقل ہار سکی
تمام وقت مزے کا مقابلہ تو رہا

میں تیری ذات میں گم ہو سکا نہ تو مجھ میں
بہت قریب تھے ہم پھر بھی فاصلہ تو رہا

یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لاابالی تھی
تری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا

جاں نثاراختر

https://shayari-urdu-hindi.com/sad-shayari-love-shayari-heart-touching-poetry-image/

https://cacke-recipe.com/cheesecake-homemade-baked-cake-recipe-cheesecakes

دیدہ و دل میں کوئی حسن بکھرتا ہی رہا
لاکھ پردوں میں چھپا کوئی سنورتا ہی رہا

روشنی کم نہ ہوئی وقت کے طوفانوں میں
دل کے دریا میں کوئی چاند اترتا ہی رہا

راستے بھر کوئی آہٹ تھی کہ آتی ہی رہی
کوئی سایہ مرے بازو سے گزرتا ہی رہا

مٹ گیا پر تری بانہوں نے سمیٹا نہ مجھے
شہر در شہر میں گلیوں میں بکھرتا ہی رہا

لمحہ لمحہ رہے آنکھوں میں اندھیرے لیکن
کوئی سورج مرے سینے میں ابھرتا ہی رہا

جاں نثاراختر

Ghazal sad love ghazals best status hits image gajal

اس کا جلوہ جو کوئی دیکھنے والا ہوتا
وعدۂ دید قیامت پہ نہ ٹالا ہوتا

اس کا جلوہ جو کوئی دیکھنے والا ہوتا
وعدۂ دید قیامت پہ نہ ٹالا ہوتا

بام پر تھے وہ کھڑے لطف دوبالا ہوتا
مجھ کو بھی دل نے اچھل کر جو اچھالا ہوتا

کیسے خوش رنگ ہیں زخم جگر و داغ جگر
ہم دکھاتے جو کوئی دیکھنے والا ہوتا

دل نہ سنبھلا تھا اگر دیکھ کے جلوہ اس کا
تو نے اے درد جگر اٹھ کے سنبھالا ہوتا

تم جو پردے میں سنورتے ہو نتیجہ کیا ہے
لطف جب تھا کہ کوئی دیکھنے والا ہوتا

تم نے ارمان ہمارا نہ نکالا نہ سہی
اپنے خنجر کا تو ارمان نکالا ہوتا

دل کے ہاتھوں نہ ملا چین کسی روز جلیلؔ
ایسے دشمن کو نہ آغوش میں پالا ہوتا
جلیل مانک پور

حسن و الفت میں خدا نے ربط پیدا کر دیا
درد دل مجھ کو دیا تم کو مسیحا کر دیا

خوب کی تقسیم تو نے اے خیال زلف یار
دل کو نذر داغ سر کو وقف سودا کر دیا

جان لے لینا جلانا کھیل ہے معشوق کا
آنکھ سے مارا لب نازک سے زندہ کر دیا

مجھ کو شکوہ ہے کہ دل کا خون قاتل نے کیا
دل یہ کہتا ہے مجھے قطرے سے دریا کر دیا

ناز ہو یا دلبری افسوں ہو یا جادوگری
سب کو قدرت نے تری چتون کا حصہ کر دیا

دل ادھر رخصت ہوا ہوش اس طرف چلتے ہوئے
کس کی آنکھوں نے یہ در پردہ اشارا کر دیا

میں کہاں چاہت کہاں یہ سب کرشمے دل کے ہیں
تم پہ خود شیدا ہوا مجھ کو بھی شیدا کر دیا

مرحبا اے ساقیٔ جادو نظر صد مرحبا
مست آنکھوں نے مرا نشہ دوبالا کر دیا

دل تڑپتا ہے تو کچھ تسکین ہوتی ہے جلیلؔ
جی بہلنے کو خدا نے درد پیدا کر دیا
جلیل مانک پور

اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے

عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے

وہ مرحلہ ہے کہ اب سیل خوں پہ راضی ہیں
ہم اس زمین کو شاداب دیکھنے کے لیے

جو ہو سکے تو ذرا شہ سوار لوٹ کے آئیں
پیادگاں کو ظفر یاب دیکھنے کے لیے

کہاں ہے تو کہ یہاں جل رہے ہیں صدیوں سے
چراغ دیدہ و محراب دیکھنے کے لیے

عرفان صدیقی

Ghazal sad love ghazals best status hits image gajal

بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

چمک رہا ہے افق تک غبار تیرہ شبی
کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے

ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی
ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے

غرض کہ پوچھتے کیا ہو مآل سوختگاں
تمام جلنا جلانا فسانہ ہو گیا ہے

فضائے شوق میں اس کی بساط ہی کیا تھی
پرند اپنے پروں کا نشانہ ہو گیا ہے

کسی نے دیکھے ہیں پت جھڑ میں پھول کھلتے ہوئے
دل اپنی خوش نظری میں دوانہ ہو گیا ہے
عرفان صدیقی

اگرچہ پار کاغذ کی کبھی کشتی نہیں جاتی
مگر اپنی یہ مجبوری کہ خوش فہمی نہیں جاتی

خدا جانے گریباں کس کے ہیں اور ہاتھ کس کے ہیں
اندھیرے میں کسی کی شکل پہچانی نہیں جاتی

مری خواہش ہے دنیا کو بھی اپنے ساتھ لے آؤں
بلندی کی طرف لیکن کبھی پستی نہیں جاتی

خیالوں میں ہمیشہ اس غزل کو گنگناتا ہوں
کہ جو کاغذ کے چہرے پر کبھی لکھی نہیں جاتی

وہی رستے وہی رونق وہی ہیں عام سے چہرے
نویدؔ آنکھوں کی لیکن پھر بھی حیرانی نہیں جاتی
اقبال نوید

Leave a Reply

Your email address will not be published.