love quotes in urdu status shayari photo image

Spread the love

love quotes in urdu status shayari photo image

دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے
اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا
احمد فراز

Mard Ki Zimay Daari Hai Kay Wo Aurat Ki izzat karay Aur Aurat Ki Zimay Daari Hai Kay Wo izzat Karwanay Wali Banay

مرد کی ذمے داری ہے کہ وہ عورت کی عزت کرے اور عورت کی ذمے داری ہے کہ وہ عزت کروانے والی بنے

میری تصویر کو تم پیار تو کر سکتی ہو
میری تصویر تمھیں پیار نہیں کر سکتی

فرط جذبات سے تم چوم تو سکتی ہو اسے
یہ مگر پیار کا اظہار نہیں کر سکتی

ثنا گورکھپوری

Duniya Ka Har Mard Hoor Jaisi Biwi Chahta Hai Laykin is Kay Liay Zarori Hai Mard Bhe Apnay Aamaal Janti Logon Jese Banaey Taakay Biwi Bhe Hoor Jaisi Khidmat Guzaar Sabit Ho Sakay

دنیا کا ہر مرد حور جیسی بیوی چاہتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے مرد بھی اپنے اعمال جنتی لوگوں جیسے بنائے تاکہ بیوی بھی حور جیسی خدمت گزار ثابت ہو سکے

نہ منہ چھپا کے جئے ہم نہ سر جھکا کے جئے
ستم گروں کی نظر سے نظر ملا کے جئے

اب ایک رات اگر کم جئے تو کم ہی سہی
یہی بہت ہے کہ ہم مشعلیں جلا کے جئے

ساحر لدھیانوی

Khud Ko Tum Pe Waar Daitay Hain Chalo Tumhara Sadqa Utaar Daitay Hain

خود کو تم پہ وار دیتے ہیں چلو تمہارا صدقہ اتار دیتے ہیں

اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر
چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے

احمد فراز

کتنی معصوم ہیں تری آنکھیں
بیٹھ جا میرے روبرو مرے پاس

ایک لمحے کو بھول جانے دے
اپنے اک اک گناہ کا احساس

جاں نثار اختر

میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو
ساز چھیڑا نہ کرو گیت سنایا نہ کرو

جاؤ آباد کرو اپنی تمناؤں کو
مجھ کو محفل کا تماشائی بنایا نہ کرو

میری راہوں میں جو کانٹے ہیں تو کیوں پھول ملیں
میرے دامن کو الجھنے دو چھڑایا نہ کرو

تم نے اچھا ہی کیا ساتھ ہمارا نہ دیا
بجھ چکے ہیں جو دیے ان کو جلایا نہ کرو

میرے جیسا کوئی پاگل نہ کہیں مل جائے
تم کسی موڑ پہ تنہا کبھی جایا نہ کرو

یہ تو دنیا ہے سبھی قسم کے ہیں لوگ یہاں
ہر کسی کے لیے تم آنکھ بچھایا نہ کرو

زہر غم پی کے بھی کچھ لوگ جیا کرتے ہیں
ان کو چھیڑا نہ کرو ان کو ستایا نہ کرو

شوکت پردیسی

What are Love Quotes in Urdu?

Na Main Baaqi , Na Meri Main Baaqi , Mainay Khud Ko Tujh Pe Waar Dia

نہ میں باقی ، نہ میری میں باقی ، میں نے خود کو تجھ پہ وار دیا

https://shayari-urdu-hindi.com/rahat-indori-shayari-photo-shayari-image-rahat-indori/

Love Quotes in Urdu | Urdu Quotes About Love With images And SMS

سفر طویل سہی حاصل سفر کیا تھا
ہمارے پاس بجز دولت نظر کیا تھا

لبوں سے یوں تو برستے تھے پیار کے نغمے
مگر نگاہوں میں یاروں کے نیشتر کیا تھا

یہ ظلمتوں کے پرستار کیا خبر ہوتے
مری نوا میں بجز مژدۂ سحر کیا تھا

ہر ایک ابر میں ہے اک لکیر چاندی کی
وگرنہ اپنی دعاؤں میں بھی اثر کیا تھا

ہزار خواب لٹے خواب دیکھنا نہ گیا
یہی تھا اپنا مقدر تو پھر مفر کیا تھا

غرور اندھیرے کا توڑا اسی سے ہار گیا
نمود ایک شرر کی تھی یا بشر کیا تھا

کوئی خلش جو مقدر تھی عمر بھر نہ گئی
علاج ایسے مریضوں کا چارہ گر کیا تھا

آل احمد سرور

https://cacke-recipe.com/aprikosenkuchen-weltbester-rezepte

محبّتوں میں لاڈ اٹھانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی

Muhabbaton Main Laad Uthana Har Aik Kay Bas Ki Baat Nahin Hoti

میں نے مانا تری محبت میں
دل کے دل ہی میں رہ گئے ارمان

پھر بھی اس بات کا یقیں ہے مجھے
نامکمل نہیں مرا رومان

جاں نثار اختر

love quotes in urdu status shayari photo image

شگفتگیٔ دل ویراں میں آج آ ہی گئی
گھٹا چمن پہ بہاروں کو لے کے چھا ہی گئی

حیات تازہ کے خطروں سے دل دھڑکتا تھا
ہوا چلی تو کلی پھر بھی مسکرا ہی گئی

نقاب میں بھی وہ جلوے نہ قید ہو پائے
کرن دلوں کے اندھیرے کو جگمگا ہی گئی

تغافل ایک بھرم تھا غرور جاناں کا
مری نگاہ محبت کا رمز پا ہی گئی

مطالبے تو بہت سخت تھے زمانے کے
مگر حقوق محبت کی یاد آ ہی گئی

مرے جنوں کی خلش سے اب اور کیا ہوتا
سکوت اہل خرد کو تو آزما ہی گئی

متاع قلب و نظر خاک ہوتے ہوتے بھی
جہان حسن کی کچھ آبرو بڑھا ہی گئی

تھپک تھپک کے سلایا جو تم نے ذوق سخن
سرور اس کو کسی کی نظر جگا ہی گئی

آل احمد سرور

love quotes in urdu status shayari photo image

خوابوں سے یوں تو روز بہلتے رہے ہیں ہم
کتنی حقیقتوں کو بدلتے رہے ہیں ہم

اپنے غبار میں بھی ہے وہ ذوق سرکشی
پامال ہوکے عرش پہ چلتے رہے ہیں ہم

سو سو طرح سے تجھ کو سنوارا ہے حسن دوست
سو سو طرح سے رنگ بدلتے رہے ہیں ہم

ہر دشت و در میں پھول کھلانے کے واسطے
اکثر تو نوک خار پہ چلتے رہے ہیں ہم

آئین پاسداریٔ صحرا نہ چھٹ سکا
وضع جنوں اگرچہ بدلتے رہے ہیں ہم

ساقی نہ ملتفت ہو تو پینا حرام ہے
پیاسے بھی میکدے سے نکلتے رہے ہیں ہم

کوئی خلیل جس کو نہ گلزار کر سکا
تیرے لیے اس آگ پہ چلتے رہے ہیں ہم

کیا جانے کب وہ صبح بہاراں ہو جلوہ گر
دور خزاں میں جس سے بہلتے رہے ہیں ہم

پرسان حال کب ہوئی وہ چشم بے نیاز
جب بھی گرے ہیں خود ہی سنبھلتے رہے ہیں ہم

ساحل کی عشرتوں کو خبر بھی نہ ہو سکی
طوفان بن کے لاکھ مچلتے رہے ہیں ہم

تخئیل لالہ کار یہ کہتی ہے اے سرور
کوئی زمیں ہو پھولتے پھلتے رہے ہیں ہم

آل احمد سرور

Leave a Reply

Your email address will not be published.